نادعلی | Naade Ali sharif ko google me Nade Ali ,Nad e Ali ,Naade Ali ,Nady Ali,Nadeali ,Nada ali , Naday Ali , Naad e Ali ,Nadia ali aur Nad Ali likh kar serch kyia jata hai aur sab k sab serch result Naade Ali yani نادعلی hi show hotay Hain ju k khas Rohani munajat مناجات hain jen ka nazool ghazwa khyber غزوہ خیبر k doran howa . Inn Rohani munajat mein Hazrat Mola Ali ki shan byian بیان hai . Inn Rohani munajat ko Dua Naade Ali bhe kaha jata hai . Iss post mein ham ap ko Dua Naade Ali sharif ki mokammal tafsil تصیل Urdu Mein batane ki koshashکوشش  krain ghay , likan yad rahay k hamara ye post sirf aur sirf Inn afrad k liye hai ju Mola Panjatan pak  مولا پنجتن پاک se Mohabbat kartay hain . Iss post mein ap ko Nad e Ali sharif k hawalay  حوالے se har sawal ka jawab hasil ho gha , lahaza iss post ko end tak parhain پڑھیں Insha Allah ap ko rohani aur zahri hawalay se bohat kush کچھ hasil ho gha .

نادعلی روحانی مناجات ہیں جسکا ظہور غزوہ خیبر کے انتالیسویں دن ہوا ۔ ان روحانی مناجات  کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے غزوہ خیبر کی ناکامی کو کامیابی میں صرف چند گھنٹوں میں بدل دیا ۔ نادعلی الہامی ہونے کی بنا پر ایک خاص تاثیر رکھتی ہےدعائے نادعلی شریف کو زمانہ قدیم ہی بزرگ زکر کرتے رہیں ہیں اور ان میں سے اکثر بزرگوں نے اس دعا کو اپنے سینے تک محدود رکھا ۔ ان بزرگوں کا اس دعا کو پوشیدہ رکھنے کا مقصد یہ تھا تاکہ کوئی بھی فرد اس دعا کی تاثیر کو غلط مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکے اور اس بات پر آج بھی عمل کیا جاتا ہے ۔
جبکہ نادعلی ، درود پاک اور قرانی آیات سے آپ کے جائز کام تو ہو سکتے ہیں مگر ایساء ممکن نہیں اللہ کی کلام سے یا دعا سے آپ اپنے ناجائز مقاصد کی تکمیل کروائیں۔
صرف چند بزرگوں نے اس دعا کو اپنے سینوں سے نکال کر عوام کے لئے عام کیا تاکہ عوام کی مشکلات بھی اللہ کے کرم سے حل ہو سکیں اور مسلمانوں کو جناب علی  علیہ سلام کے رتبے کا بھی اندازہ ہو سکے ۔
اس پوسٹ میں ہم آپ نادعلی کی حقیقت ،نادعلی کے الہامی دعا ہونے پر دلائل اور اسکی سند کے بارئے میں بتائیں گے ۔اس کے علاوہ جو افراد نادعلی ہر اعتراض کرتے ہیں ان کے اعتراضات پر بھی اس پوسٹ میں جواب موجود ہیں  ۔لیکن یاد رہے ہم نے نادعلی کے بارئے میں جو معلومات اکٹھا کرکے اس پوسٹ میں درج کی ہیں وہ صرف اور صرف ان افراد کے لئے ہیں جو دل میں حب علی رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہم نہ تو زبردستی اپنے عقائد نظریات کسی پر لاگو کر رہیں اور نہ ہی ہم  آپ کو زبردستی نادعلی پڑھنے کا کہتے ہیں ۔

فہرست

نادعلی دعا
نادعلی اردو ترجمعہ
نادعلی کا ظہور
نادعلی کا حدیث سے حوالہ
نادعلی کی سند
کیا نادعلی دعا ؟

نادعلی دعا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ نَادِ عَلِیًّا مَظْهَرَالْعَجائِبِ تَجِدْهُ عَوْنًا لَکَ فِی النَّوائِبِ کُلَّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَیَنْجَلِی

اصل میں نادعلی کے روحانی مناجات یہاں تک ہیں اور بعض بزرگوں نے مطابق نادعلی میں بعظمتک یا اللہ یا اللہ یا اللہ کا اضافہ خود حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اور اس وقت کے حب داروں نے اس میں مولا پنجتن پاک کا وسیلہ کا بھی آضافہ فرمادیا
یعنی بنبوتک یا رسول اللہ بولایتک یاعلی یاعلی یاعلی یابی بی فاطمہ سلام اللہ علیہ یا حسن مجتبی یا حیسن شہید کربلا
کا اضافہ فرما دیا جو کہ افضل ہے اس طرح نادعلی کچھ یوں ہے
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ نَادِ عَلِیًّا مَظْهَرَالْعَجائِبِ تَجِدْهُ عَوْنًا لَکَ فِی النَّوائِبِ کُلَّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَیَنْجَلِی
بعظمتک یا اللہ یا اللہ یا اللہ بنبوتک یا رسول اللہ بولایتک یاعلی یاعلی یاعلی یابی بی فاطمہ سلام اللہ علیہ یا حسن مجتبی یا حیسن شہید کربلا

نادعلی اردو ترجمعہ

پکارو علی کو جو عجائبات کے مظر ہیں آپ علی کو مشکلات میں اپنا مدر گار پائیں گے اور جلد ہی آپ کو مشکلات سے نجات حاصل ہو جائے گی ۔

نادعلی کا ظہور

نادعلی روحانی مناجات ہیں جن کا ظہور اس وقت ہوا جب مسلمان مقام خیبر پر جنگ کرتے ہوئے بھوک ، پیاس اور بیماری کی وجہ سے شکست کے قریب پہنچ گئے
یہ جنگ انتالیس دن جاری رہی لیکن
39 شب میں آپ سرکار نے اعلان فرمایا کل میں عَلم اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ہاتھ اللہ نے فتح لکھی ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول اس سے محبت کرتا ہے ۔ ( سعد بن ابی وقاص سے روایت )
لہذا اسی رات آپ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو غیب سے نادعلی سنائی دی اور اس کے بعد آپ نے اسی نادعلی کو پڑھا اور صبح کے وقت آپ نے صحابہ اکرام سے فرمایا کہ علی کہاں ہیں ۔
مولا علی علیہ سلام کا نام سن کر سبھی صحابہ کے مرجھائے ہوئے چہروں پر چمک آگئی اور انہیں یقین ہو گیا کہ اب اس جنگ نے ہر حال میں اللہ کے حکم سے فتح ہونا ہے ۔
کچھ روایات کے مطابق جناب علی علیہ سلام وہاں موجود تھے اور آنکھوں میں زخم ہونے کی بناء پر مجاہدین کی خدمت کا کام سرانجام دے رہے تھے ، لہذا سرکار کے حکم پر مولا علی علیہ سلام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ نبی پاک نے اپنا لعاب دہن مولا علی علیہ سلام کی آنکھوں میں لگایا جس سے مولا علی علیہ سلام کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہو گئی اور آپ نے کچھ ہی دیر میں خیبر کو فتح کرکے نبی پاک کے حکم کی تعمیل کردی ۔
کچھ بزرگوں کے مطابق نادعلی کا نزول خیبر کے مقام پر 39 دن جنگ کرنے کے بعد ہوا ، نادعلی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جناب مولا علی علیہ سلام کو واضع حکم بھی موجود ہے اور نادعلی میں جناب علی علیہ سلام کی شان کو بھی واضع کیا گیا ہے ۔
اسکے علاوہ نادعلی کے ظہور اور نبی پاک کی طرف سے اس کے پڑھنے کی روائت غزوہ تبوک اور احد میں بھی ملتی ہے اور ان میں کسی بھی روائت کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس حوالے سے یہ گمان بھی غلط نہ ہوگا کہ نادعلی غزوہ خیبر ، تبوک اور احد تینوں مقامات پر آپ سرکار نے پڑھی اور ان تینوں مقامات پر نادعلی پڑھنے کا مقصد مسلمانوں پر جناب علی علیہ سلام کے مقام کو واضع کرنا تھا۔
ایک حدیث جس میں سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ انھیں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ میں آج اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔

نادعلی حدیث

نادعلی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں لیکن سوال یہ اخذ ہو رہا ہے جو چیز براہ راست قران و حدیث سے ثابت نہ ہو تو کیا اسے اپنانا چاہئے یا چھوڑ دینا چاہئے ؟
تو اس سوال کا جواب یہی ہوگا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ہر وہ کام نہیں کرنا چاہئے جسکا حکم ہمیں قران اور حدیث سے نہیں ملتا ۔
جہاں پر مزید چند سوال اخز ہو جاتے ہیں کہ قران میں تو جنگ تیر اور تلوار سے ثابت ہے تو جنگ کے لئے ٹینک ، جنگی جہاز ، کےکے اور جدید اصلحہ کا استعمال کیا گناہ ہے ۔ ؟
ان چند سوالوں کا جواب اگر کسی عالم دین سے پوچھا جائے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ جس چیز کے اجزاء اس کے حق میں قران وحدیث سے ثابت ہوتے ہوں تو وہ جائز ہے بصورت دیگر وہ جائز نہیں ۔
یہی بات تو نادعلی کے حوالے سے ہم کرتے ہیں کہ نادعلی میں موجود اجزاء اگر تو قران اور حدیث میں موجود ہیں تو اسے محمد آل محمد سے محبت کرنے والوں کو مزید گہرائی سے اپنا لینا چاہئے اگر اجزاء موجود نہیں تو تو اسے نہ اپنائیں اس بات کو ہم ایک اور مثال سے واضع کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ معاشرئے میں بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو روز گار کے لئے کسی بھی قسم کام دھندہ نہیں کرتے لہذا یہ افراد اپنے فارغ وقت میں بزرگوں ، علماء اکرام ، سیاسی لیڈروں ، روایات یا سند میں غلطیاں نکال کر گزارتے ہیں ۔
ایسے افراد میں سے اکثر افراد نادعلی کی سند اور نادعلی کے بارئے میں بزرگوں کے فرمامین کا انکار کر دیتے ہیں ۔
لہذا اب ہم دعائے نادعلی کا مفہوم صرف ان افراد کے لئے بیان کر رہیں جو نادعلی سے محبت کرتے ہیں یہ اس لئے تاکہ آپ کے علم و شعور میں مزید اضافہ ہو اور  آپ کسی بھی فرد کی جلالی باتیں سن کر گمراہ نہ ہوں   ۔
وقت کا بادشاہ وہ فرد بھی ہوتا ہے جس کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے یعنی وہ روزی رزق کے لئے کسی قسم کا کام دھندا نہیں کرتا وہ صرف بزرگوں ، علماء اکرام ، سیاسی لیڈروں ، روایات یا سند میں غلطیاں نکالتا ہے ۔
ناظرین اگر کسی بھی چیز کے اجزاء قرآن وحدیث میں موجود ہوں تو اس چیز غلط ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ مثال کے طور پر رس گلہ مٹھائی اسلام کے ابتدائی دور میں موجود نہ تھی لیکن آج ہر فرد رس گلہ مٹھائی کو حلال بھی مانتا ہے اور کھاتا بھی ہے جبکہ رس گلہ مٹھائی کا نہ تو براہ راست قرآن میں تذکرہ ہے اور نہ ہی حدیث میں ایساء کیوں ؟
یہ اس لئے کی رس گلہ مٹھائی میں موجود تمام اجزاء حدیث مبارکہ کے مطابق حلال ہیں ۔
اس لئے اب دعائے نادعلی کے مفہوم کو حدیث مبارکہ میں چیک کریں کہ اس دعا مبارکہ کا مفہوم حدیث مبارکہ سے ثابت ہے یا نہیں ۔
یاد رہے کہ ہم کسی بھی انسان کے اوپر اپنے نظریات لاگونہیں کررہے ہمارا یہ عقیدہ صرف اور صرف ان افراد کے لئے پیش کیا جا رہا ہے جو نادعلی سے محبت کرتے ہیں
اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ نادعلی کے اجزاء کیا ہیں اور یہ قران وحدیث سے کس طرح ثابت ہیں ۔
نادعلی کے 3 جز ہیں اگر یہ اجزاء قران و حدیث سے ثابت ہو جائیں تو اسے اپنا لیں بصورت دیگر نادعلی کو نہ اپنائیں
نادعلی کے اجزاء
علی کا نام لینا عبادت
شان علی
مولا علی علیہ سلام کی مدد
علی کا نام لینا عبادت
بہت ساری احادیث میں جناب مولاعلی علیہ سلام کا نام لینا عبادت کرار دیا گیا ہے
۱۱۔ ذكر علىّ عبادة
ذکر علی عبادت ہے
اب نادعلی کی ابنداء ہی سرکار کے نام سے ہورہی ہے اور جب سرکار کا نام نادعلی میں میں موجود ہے تو وہ عبادت نہیں تو کیا ہے
شان علی
نادعلی اصل میں وہ روحانی مناجات ہیں جن میں جناب مولا علی کی شان مبارک کو مسلمانوں پر واضع کیا گیا ہےاور جناب مولا علی کی شان صرف وہ بیان کرتے ہیں جو سرکار سے محبت کرتے ہیں اور حدیث ہے کہ
ـ ۳۴۔ حبّ آل محمد يوما خير من عبادة سنة
آل محمد سے ایک دن کی محبت سال کی عبادت سے افضل ہے
اور جو افراد نادعلی پڑھ رہے ہوتے ہیں اصل میں وہ سرکار کی شان ہی تو بیان کر رہے ہوتے ہیں اور شان بیان کرنا ، نام لینا یا تذکرہ کرنا ایک ہی تو بات ہے ۔
مولا علی علیہ سلام سے مدد مانگنا
نادعلی کا یہ تیسرا جز ایساء ہے جس سے بہت سے لوگ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شرک ہے ۔ اصل میں شرک کا مطلب اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود مان لینا ہے ۔ اگر کوئی فرد نادعلی مولا علی علیہ سلام کو معبود مان کر پڑھتا ہے تو یہ گناہ ہے اور خود مولا علی علیہ سلام کو یہ بات پسند نہں
لیکن اگر کوئی فرد مولا علی علیہ سلام کو معبود نہیں مانتا اور نادعلی پڑھتا ہے تو یہی محبت والے کرتے ہیں ۔
اب یہاں پر جو لوگ اپنے دل میں بغض علی رکھتے ہیں وہ بغض میں آکر بہت بڑئے بڑئے سوال اخذ کر کے لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ
اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے؟
جو زندہ نہیں اس سے مدد مانگنا شرک ہے ؟
جو موجود نہیں اسے پکارنا شرک ہے ؟
ناظرین ان سبھی سوالوں کے جواب موجود ہیں لیکن ایک سوال جو بے حد اہم ہے اس کا جواب اگر آپ کے پاس ہاں میں ہے تو نادعلی کاکو محبت سے اپنا لینا بصورت دیگر چھوڑ دینا سوالیہ ہے ۔
کہ کیا اللہ کی ذات مولا علی کے ذریعے آج کسی کی مدد کرنے پر قادر ہے یا نہیں ؟

کیا اللہ کے سواءکسی سے مانگنا اسے معبود ٹھہرانے کے مترادف ہے ؟

  کسی اگر آپ نے ضرورت کے مطابق قرض مانگ لیا  تو کیا یہ شرک ہے ؟
کسی پیاسے نے  آپ سے پانی مانگ لیا  تو کیا یہ شرک ہے  ؟
آپ نے  کسی زخمی کی مدد کر کے اسے ہسپتال پہچا دیا تو کیا یہ شرک ہو  گیا  ؟
ناظرین کوئی بھی فرد اگر کسی بھی فرد کی مدد کرتا ہے تو یہ مدد اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے  کیونکہ اللہ نے آپ کی مدد کے لئے براہ راست تو آنا نہیں  صرف وسیلہ پیدا فرمانا  ہے اور جو فرد بھی آپ کی مدد کرتا ہے وہی اللہ کا پیدا کردہ آپ کے لئے وسیلہ ہے ۔  لیکن وسیلہ حاصل کرنے کے لئے بھی آپ کو کوشش کرنے پڑئے گی   ۔
اور یہ کوشش کیا ہے  ؟
یہی کہ آپ کسی کو مدد کے لئے کہیں   ،
 اور یہاں اللہ کی مدد کیا ہے  ؟
 کہ وہ اس فرد کے دل میں رحم ڈال دئے گا اور وہ آپ کے سوال کو پورہ کرنے کے لئے ہمت شروع کر دئے گا   ۔
اس کا حدیث سے حوالہ  :
حی الاولیاء جلد  8 صفحہ 297
کنزالاعمال جلد 6 صفحہ 85
حدیث : نعمتیں طلب کرو فقیر مسلمان  سے  کیونکہ یہ انکی دولت ہے قیامت کے دن کے لئے
اس حدیث مبارکہ میں  فقیر مسلمان سے نعمتیں مانگنے کا حکم دیا گیا ہے  ۔
اب بتائیں کہ کیا مولا علی سے بڑئے کوئی فقیر   ( علم کے بادشادہ  ،  سوچنے والا ) ولی اللہ  کوئی ہو سکتا  ہے  ۔
حدیث   :
طبرانی ، موجبا الکبیر   صفحہ 117 ، جلد  18
کنزالاعمال ، مجموعہ زوائل
 ترجمعہ : جب تم سے کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے  اور اسکو مدد کی  ضرورت ہو  اور وہ کسی ایسی  جگہ پر ہو  جہاں اسکا کوئی مدد گار نہ  ہو  تو وہاں وہ پکارئے
 ائے اللہ کے بندوں میری مدد کروں
 ائے اللہ کے بندوں میری مدد کروں
 ائے اللہ کے بندوں میری مدد کروں
تو وہاں اللہ کے ایسے بندئے ہوں گے جہیں یہ نہیں دیکھ سکتا  مگر وہ اسے دیکھ  رہیں ہوں گے  وہ اسکی گمشدہ  چیز تلاش کرنے میں مدد  ضرور کریں  گے  ۔
راوی  صحابی رسول عتبیٰ بن غزوان
اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم  نے اللہ کی  اس مخلوق  سے مدد  مانگنے کا حکم فرمایا ہے جو کہ دیکھائی نہیں دیتی   ۔   ( گو کہ مدد اللہ ہی نے کسی نہ کسی وسیلہ کے زریعے کرنی ہوتی ہے  )
اب  یہاں غور کریں  کہ فرشتے یا کوئی بھی غیبی مخلوق انسان کا درجہ حاصل نہیں کر سکے  ۔
اسی طرح لاکھوں انسان مل کر اللہ کے ولی کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے
اسی طرح دنیا بھر کے ولی مل کر ایک صحابی رسول کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے
جبکہ تمام صحابہ سے افضل صحابی  جناب مولاعلی کی ذات مبارک ہیں اور کوئی بھی مسلمان اس بات سے انکار نہیں کر سکتا  ۔
حدیث مبارکہ میں غیبی مخلوق  سے  مدد مانگنے کا حکم موجود ہے   جو کہ  صحابہ اکرام ، اولیاء اللہ اور انسان سے درجے میں بے حد کم ہیں   تو کیا علی علیہ سے مدد مانگنا غلط ہے جو کہ ان تمام  سے افضل ہیں  ۔
اس حدیث مبارکہ  میں ضرورت کے مطابق مدد    مانگنے  کی تاکید فرمائی گئی ہے   تو   پھر   بھلا یہ شرک یا معبود ٹھہرانے کے زمرئے میں کیسے آ سکتا ہے   ۔
تو  ثابت ہوا کہ نادعلی پڑھ کر مولا علی علیہ سلام  سے مدد طلب کرنے  سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ کوئی فرد  جناب مولا علی علیہ سلام  کو معبود  ٹھہرا رہا ہے    ، یعنی معبود ٹھہرانے یا مدد مانگنے میں فرق ہے   ۔
تیسری حدیث
مجموعہ الذوائد  جلد 10 صفحہ 132
موجباالکبیر صفحہ  167
کنزالاعمال  جلد  6     صفحہ    705
جامع الصغیر   جلد 1   صفحہ   37
حضرت عبداللہ بن  مسعود نے فرمایا کہ اگر  کوئی آدمی کہیں جا رہا ہو اور اسکا جانور بگڑ گیا ہو  اور وہ اسکے قبضے میں نہ آرہا ہو   تو وہ کہے
ائے اللہ کے بندوں اسے روک لو
ائے اللہ کے بندوں اسے روک لو
ائے اللہ کے بندوں اسے روک لو
تو پر اللہ کے ایسے بندے ہوں گے جو اس سواری کو روک لیں گے  ۔
اب اس حدیث مبارکہ پر غور کرلیں کہ غیب مخلوق  سے بگڑئے جانور کو روکنے کے لئے مدد مانگنے کی تاکید کی جارہی  ہے  یہ غیب مخلوق شہداء کی ارواح بھی ہو سکتی ہیں  ،  مسلمان جنات بھی ہو سکتے ہیں اور  فرشتے بھی ہوں سکتے ہیں   تو کیا  جس مسلمان نےسواری کو  قابو میں کرنے کے اللہ کے بندوں سے مدد مانگی  تو اس سے شرک کیا  ؟
چوتھی حدیث
کنزل الاعمال صفحہ نمبر  1680  ۔ راوی حضرت ابو سعید خدری
ترجمعہ  : اپنی حاجات کو میرئے رحم  دل امتیوں سے طلب کرو
یہاں غور کریں کہ کیا جناب علی علیہ سلام   رحم دل نہیں  ؟
پانچویں حدیث  :  راوی مولا علی
میرے رحم دل امتیوں سے بڑائی مانگوں ان کی پناۃ میں چیں پاو گے
چٹھی حدیث  : راوی  حضرت عبداللہ ابن عباس
بھلائی اس سے مانگوں جسکا  چہرہ خوبصورت  ہے
ساتویں حدیث  : میزان الاعتدال میں حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں  کہ    حدیث  نہیں ملی
اسی طرح کسی کو پکارنا    بھی غلط نہیں
جیسا کہ اللہ نے قران میں  یا ایھاالمزمل  ، یا ایہاالمدثر ، یا ایہا الذین امنو کہہ کر سرکار کو اور ایمان والو کو پکارہ
اسی طرح سرکار نے بھی    یاایہا الکافروں  کہہ کر  کفار کو پکارہ ۔
اسی طرح نادعلی میں اگر کوئی فرد جناب علی علیہ سلام کو وسیلہ کے طور پر پکارتا ہے تو اس  کا مطلب یہ نہیں  کہ اس سے سرکار  کو معبود ٹھہرا دیا   ۔
مطلب پکارنے اور معبود ٹھہرانے میں فرق ہے   ۔اسی طرح مدد مانگنے اور معبود ٹھہرانے میں بھی فرق ہے  ۔
دعائے نادعلی میں علی کو پکارہ بھی جاتا ہے اور سرکار سے بطور وسیلہ مدد بھی طلب کی جاتی ہے  جسکا مطلب یہ  ہر گز نہیں کہ کسی نے سرکار کو معبود ٹھہرا دیا ۔
ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ  کسی کو پکارنا  اور کسی سے مدد مانگنا  شرک نہیں بلکہ معبود ٹھہرانا شرک ہے  اور نادعلی پڑھکر کوئی جناب مولاعلی  علیہ سلام کو معبود نہیں ٹھہراتا  ۔

 کیا مولاعلی پکار سنتے ہیں ؟

حوالہ : امام محمد بن عبداللہ نیشاپوری  ، کتاب  :المستدرک با ا لحاکم
ایک دفعہ سرکار کوفہ کی ایک مسجد میں اپنے چاہنے والوں کے ساتھ  تشریف فرما تھے  تو اچانک آپ جناب علی  علیہ سلام  نے کہا  و علیکم اسلام   ، تو   جناب علی  علیہ سلام  کے  یہ الفاظ سن کر اہل  محفل پر یشان ہو گئے اور عرض کی کہ سرکار آپ کو تو   محفل میں کسی  نے سلام نہیں  کیا اور نہ ہی محفل میں کوئی اور فرد آیا ہے تو آپ نے  و علیکم اسلام   کسے کہا  ۔
تو آپ سرکار  نے فرمایا کہ جنت میں حضرت جعفر طیار  نے مجھے سلام  کیا  اور میں نے ان ہی کے سلام کا جواب دیا  ۔
اب یہاں  غور کریں  جو ہستی جنت سے اپنے چاہنے والوں کی آواز سن سکتی ہو  تو کیا آپ کی یا ہماری آواز سننا یا التجاء سننا اس ہستی کے لئے مشکل ہو سکتا ہے.
 کتاب المستدک باالحاکم  میں موجود حدیث مبارکہ بخاری اور مسلم شریف کی شرائط پر پورہ اترتی ہیں
امام محمد بن عبداللہ نیشاپوری  انہیں حاکم نیشاپوری بھی کیا جاتا ہے  دین کی اصلاح میں میں حاکم اس ہستی کو کہتے ہیں  جسے حضور بنی اکرم کا ہر فرمان ، ہر قول اور ہر عمل یاد ہو   ۔
یا رہے کہ   جس ہستی کو  ایک لاکھ حدیث یاد ہوں اسے حافظ الحدیث کہتے ہیں
جسے 3 لاکھ حدیثیں یاد ہوں انہیں  انہیں حجۃالاسلام کہتے ہیں  اور یہ رتبہ  امام غزالی کو حاصل تھا  اور جسے بنی کا ہر قول اور ہر حکم یاد ہو اسے حاکم کہتے ہیں   اور محمد بن عبداللہ نیشاپوری ایک حاکم تھے  اور اوپر بیان کیا گیا واقع انہوں نے اپنی کتاب المستدرک باالحاکم میں بیان فرمایا ہے  ۔

نادعلی سند

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک کتاب تحریر فرمائی جسکا نام انتباہ فی سلاسل اولیا ء ہے جن میں آپ نے فرمایا کہ آپ نے نادعلی کی سند دو بزرگوں سے حاصل کی ۔
پہلے بزرگ ابو طاہر قردی المدنی ہیں
اور دوسرئے بزرگ شیخ محمد سعید شتاری لاہوری ہیں ۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ انتباہ فی سلاسل اولیا ء میں لکھتے ہیں کہ وہ حج کے لئے مدینہ منورہ گئے تو مدینہ میں انکی ملاقات شیخ الحدیث ابو طاہر قردی المدنی سے ہوئی جن کے زیر سایہ انہوں نے وقت گزار کر طریقت اور حدیث کا علم حاصل کیا اور اسی دوران ابو طاہر قردی المدنی شاہ ولی اللہ کو دعائے نادعلی اور دعائے سیفی پڑھنے کی اجازت بھی عطا ء فرمائی ۔
حج کے بعد واپسی پر شاہ ولی اللہ لاہور پہچے تو لاہور میں انکی ملاقات شتاریہ سلسلہ کے بزرگ محمد سعید لاہوری سے ہوئی تو ان بزرگوں سے بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ دعائے نادعلی اور دعائے سیفی پڑھنے کی اجازت طلب کی ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے دو کامل بزرگوں سے نادعلی کی سند تو حاصل کر لی مگر ان بزرگوں کو نادعلی کہاں سے حاصل ہوئی ۔
تو سب سے پہلے ہم شیخ الحدیث ابو طاہر قردی المدنی سے نادعلی کی سند کا حوالہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔
شیخ الحدیث ابو طاہر قردی المدنی دعائے نادعلی شیخ احمد نخدی سے حاصل کی شیخ احمد نخدی رحمتہ اللہ علیہ نے شیخ میر قلال رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔ شیخ میر قلال رحمتہ اللہ علیہ نے شیخ عیسی برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کی شیخ عیسی برہان پوری رحمتہ اللہ علیہ نے شیخ لشکر رحمتہ اللہ علی محمد سے حاصل کی شیخ لشکر رحمتہ اللہ علی محمد نے شیخ محمد غوث گوالیاری سے دعائے نادعلی کی سند حاصل کی
اسی طرح شاہ ولی اللہ نے لاہور میں جن بزرگوں( شیخ محمد سعید شتاری لاہوری ) سے نادعلی کی اجازت اور سند حاصل کی ان کی نسبت بھی آ جا کر شیخ محمد غوث گوالیاری رحمۃاللہ سے ہی ملتی ہے ۔ یعنی
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دعائے نادعلی کی سند شیخ محمد سعید شتاری لاہوری رحمۃاللہ علیہ سے حاصل کی شیخ محمد سعید شتاری لاہوری رحمۃاللہ علیہ نے شیخ محمد اشرف لاہوری رحمۃاللہ علیہ سےشیخ محمد اشرف لاہوری رحمۃاللہ علیہ نے عبداملک رحمۃاللہ علیہ سےعبداملک رحمۃاللہ علیہ نے باجوی ثانی رحمۃاللہ علیہ سے باجوی ثانی رحمۃاللہ علیہ نے وجہہ الدین گجراتی رحمۃاللہ علیہ سے وجہہ الدین گجراتی رحمۃاللہ علیہ نے دعائے نادعلی کی سند شاہ محمد غوث گوالیاری سے دعائے نادعلی کی سند حاصل کی ۔
شاہ محمد غوث گوالیاری رحمۃ اللہ نے تقریباََ 500 سے قبل ایک کتاب جواہر خمسہ کے نام سے تحریر فرمائی تھی اس کتاب کے صفحہ نمبر 371 دعائے نادعلی موجود ہے ۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شاہ محمد غوث گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ نے دعائے نادعلی کہاں سے حاصل کی تھی ؟
تو یہ ڈیٹیل بھی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔ یعنی
شاہ محمد غوث گوالیاری رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ محمد ظہور رحمۃ اللہ علیہ سے دعائے نادعلی حاصل کی
شیخ محمد ظہور رحمۃ اللہ علیہ نے شیخ ہدیۃ اللہ سرمد رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ ہدیۃ اللہ سرمد رحمۃاللہ نے شیخ محمد قاضی رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ محمد قاضی رحمۃاللہ علیہ نے شیخ عبداللہ شتاری رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ عبداللہ شتاری رحمۃاللہ علیہ نے شیخ محمد عارف رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ محمد عارف رحمۃاللہ علیہ نے شیخ محمد عاشق رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ محمد عاشق رحمۃاللہ علیہ نے شیخ ہذاقلی ماوراء ناری رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ ہذاقلی ماوراء ناری رحمۃاللہ علیہ نے ابو الحسن حزقانی رحمۃاللہ علیہ سے
ابو الحسن حزقانی رحمۃاللہ علیہ نے ابوالمظفر ترت طوسی رحمۃاللہ علیہ سے
ابوالمظفر ترت طوسی رحمۃاللہ علیہ نے شیخ ابویزید عشقی رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ ابویزید عشقی رحمۃاللہ علیہ نے شیخ محمد مغربی رحمۃاللہ علیہ سے
شیخ محمد مغربی رحمۃاللہ علیہ نے بایزید بسطانی رحمۃاللہ علیہ سے
بایزید بسطانی رحمۃاللہ علیہ نے سیدنا امام جعفر صادق علیہ سلام سے
سیدنا امام جعفر صادق علیہ سلام نے نادعلی اپنے بابا حضرت امام باقر علیہ سلام
سے حضرت سیدنا امام باقر علیہ سلام نے نادعلی سیدنا امام زین العابدین سے حاصل فرمائی
سیدنا امام زین العابدین علیہ سلام نے دعائے نادعلی جناب امام حسین کریمین سے
اور حضرت امام حسین کریمین نے دعائے نادعلی اپنے بابا جناب مولا علی علیہ سلام سے سنی ۔
یہ دعائے نادعلی کی سند ہے اہل سنت کے نزدیک بہت ہی زیادہ معتبر مانی جاتی ہے ۔
اسی طرح اہل توشعہ کے نزدیک بھی نادعلی کے بارئے میں مستند روایات موجود ہیں ۔

کیا نادعلی دعاہے ؟

ناظرین ذہن سوالات کی آماجگاہ ہے جس میں ہر طرح کے سوالات آتے رہتے ہیں اور جب تک انسان کو ان باتوں کے جواب نہیں ملتے تو انسان کشمکش کا شکار ہی رہتا ہے ۔ ایسے ہی بہت سے ذہن میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ ناد علی دعا کیا ہے ۔ کیا یہ دعا ہے بھی یا نہیں ۔ کیوں لوگ اسے پڑھتے ہیں۔
تو ناظرین ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ ناد علی خاص روحانی مناجات ہیں یہ دعا تب ہوتی جب اس میں بعظمتک یا اللہ پڑھا جاتا ۔ کیونکہ دعا اللہ ہی کی بارگاہ میں کی جاتی ہے اور یا اللہ کہنا ایک دعا ہے
بعظمتک یا اللہ یا اللہ یا اللہ نادعلی میں خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضافہ فرمایا تاکہ لوگ نادعلی کا غلط مطلب نہ لیں اور اسی اضافہ کی بناء پر نادعلی کا دعا کہا جانے لگا جبکہ نادعلی روحانی مناجات ہیں جس میں سرکار مولا علی علیہ سلام کی شان مبارک بیان ہے اور ہم ان ہی الفاط کو اس لئے دھراتے ہیں کیونکہ یہ الفاظ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیان مبارک سے اسی طرح ادا ہوئے تھے جس طرح کہ نادعلی ہے
جب کوئی فرد نادعلی پڑھتا ہے تو اس میں موجود سرکار کے نام اور شان کی برکت سے اللہ کی ذات اس فرد کی مشکل کو ضرور آسان فرما دیتے ہیں
ہمارا یہ ایمان ہے کہ جو الفاط نبی پاک کی زبان مبارک سے ادا ہوتے ہیں ان میں خاص تاثیر پائی جاتی ہے اور اس میں ردوبدل کرنا درست نہیں اسی وجہ سے ہم لوگ نادعلی شریف کو اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح کے یہ الفاظ سرکارکی زبان مبارک سے ادا ہوئے ۔
یہاں پر کچھ لو گ نادعلی شریف کو اس بناء پر رد کردیتے ہیں کہ
اس دعا مبارکہ کو
سرکار نے خیبر کے مقام پر کئی سو سال پہلے ماضی میں پڑھے اور اس وقت جناب مولا علی علیہ دنیا میں ظاہری لبادے میں موجودتھے اب وہ وقت ماضی ہو گیا اور سرکار جناب مولا علی علیہ سلام کی ذات مبارک ظاہرٰی لبادے میں دنیا میں موجود نہیں ۔لہذا کچھ لوگوں کے مطابق جو ہستی زندہ نہ ہو اس سے مدد طلب کرنا شرک ہے
جبکہ ہم لوگ نادعلی کو اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح یہ الفاظ نبی پاک کی زبان مبارک سے ادا ہوئے
کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ نبی پاک کی زبان مبارک سے نکلے الفاظ تقدیر بنتے ہیں ۔

 نبی کا علی سے مدد طلب کرنا کیسا ہے ؟

مدد 2 قسم کی ہوتی ہے ایک مدد ” حکم مدد ” ہے اور اس مدد کوصرف بڑا چھوٹے سے حاصل کر سکتا ہے ۔
دوسری قسم کی مدد ” التجائے مدد ” وہ مدد ہے یہ مدد چھوٹا اپنے بڑئے سے حاصل کرتا ہے ۔
اب چونکہ دعائے نادعلی شریف پڑھ کر چونکہ جناب علی علیہ سلام سے مدد حاصل کی جاتی ہے اس لئے بہت سے افراد دعائے نادعلی شریف کو اس لئے رد کرتے ہیں کہ بھلا بنی علی سے کیوںکر مدد طلب کریں جبکہ نبی کا رتبہ علی سے زیادہ ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بنی جس انسان سے بھی مدد طلب کریں وہ حکم کے زمرئے میں آتی ہے اور اس مدد کو ” حکم مدد ” کہا جاتا ہے ۔
اسکی مثال یہ ہے کہ آپ نے اپنی اولاد میں سے کسی سے کہا کہ وہ گندم کی بوری اٹھانے میں آپ کی مدد کرئے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی اولاد آپ سے بڑی ہے ۔
اولاد جتنی مرضی بڑی ہو جائے وہ اپنے والدین سے چھوٹی ہی رہتی ہے ۔
مطلب یہ کہ والدین کا اولاد سے مدد طلب کرنا ‘حکم مدد ” ہے ۔
اسی غزوہ خندق میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا علی سے مدد طلب کرنا ‘حکم مدد ” ہے ۔
یعنی سرکار نے علی کو خیبر فتح کرنے کا حکم دیا اور اس حکم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جناب مولاعلی شیر خدا نے خیبر کو فتح بھی کیا ۔
ایک اور چھوٹا سوال یہاں یہ بھی اخذ ہوتا ہے کہ کیا غزوہ خندق میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ جناب علی علیہ سلام سے مدد طلب فرمائی ، کیا یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لئے تھی ؟ جواب کا آپ کو بہتر اندزہ ہوگا ۔
التجاء مدد
” التجائے مدد “یہ مدد چھوٹا اپنے بڑئے سے حاصل کرتا ہے ۔
مثال کے طور پر آپ کو اپنی مشکلات زندگی سے کوشش کے باوجود نجات نہیں مل رہی تو ان مشکلات سے نجات کے لئے آپ اپنے والدین یا گھر کے کسی بھی بزرگ سے ضرور مدد حاصل کرتے ہوں گے ۔
یہ مدد التجائے مدد کہلاتی ہے جس میں چھوٹا اپنے بڑئے سے عاجزانہ انداز میں مدد حاصل کرتا ہے ۔
الغرض بنی کا نادعلی پڑھنا ” حکم مدد “ہے کیوں کہ نبیؑ علی سے بڑئے ہیں ۔
اور ہمارا نادعلی پڑھنا ” التجائے مدد ” ہے کہ ہم جناب مولاعلی علیہ سلام سے بہت چھوٹے ہیں ۔

جناب علی علیہ سلام کی مدد کےمستحق کون ؟

ناظرین جناب علی علیہ سلام کو اللہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے بے شمار اختیارات سے نواز رکھا ہے لیکن اسکے باوجود آپ نے انتہائی غربت کی حالت میں کھیتوں میں حل چلا کر اور مشقت والے کام کر کے اللہ کی بارگاہ سے رزق حلال حاصل کیا ۔
اب اگرکوئی فرد گھر میں بیٹھا رہے اور رزق حلال کی تلاش نہ کرئے تو کیا ایسے فرد کوسرکار پسند فرمائیں گے ؟ ہر گز نہیں ۔
جناب علی علیہ سلام نے اسلام اور اپنی مشکلات کو اللہ کے کرم سے اپنی جرات و بہادری سے ٹالا ۔
اب اگر کوئی سرکار کو ماننے والا اپنی مشکلات پر دل برداشتہ ہو کر بیٹھ جائے اور فرار کا را ستہ اختیار کرنے کی سوچے تو جناب علی علیہ سلام کو ایسے افراد بھی پسند نہیں ۔
ناظرین کوئی فرد جناب علی علیہ سلام کو مرشد مانتا ہے ، کوئی پیر مانتا ہے ، کوئی آقا مانتا ہے اور کوئی مالک مانتا ہے اور کوئی اپنا باپ ماتنا ہے اور سب سے افضل بات یہی ہے کہ سرکار کو اپنا باپ مانا جائے ۔
کیوں کہ لوگ پیر ، آقا یا مالکوں کے منکر ہو جاتے ہیں باپ کا منکر کوئی بھی نہیں ہوتا ۔
اب کوئی سرکار کو اپنا باپ مانے یا نہ مانے سرکار اپنے چاہنے والوں کو اپنی اولاد ہی مانتے ہیں گو کہ امام حسن ، حسین اور ان ہستوں کی اولاد جیساء رتبہ کوئی بھی نہیں حاصل کر سکتا ۔
لیکن اس کے باوجود سرکار کے چاہنے والے سرکار کی ہی اولاد ہیں ۔
اب یہاں غور کریں کہ جب اولاد نشہ کی عادی ہو جائے تو باپ کے دل پر کیا گزرے گی ۔
یاد رہے کہ جناب علی علیہ سلام آپ کو آپ کے باپ سے بھی ذیادہ محبت کرتے ہیں تو ان کے دل پر کیا گزرئے گی
مطلب یہ کہ سرکار کو نشہ پسند نہیں ، تو نشہ کرنے والے یا نشہ کروانے والے کیسے پسند ہو سکتے ہیں ۔
اور یاد رکھیں جب کوئی بھی فرد نشہ کرتا ہے تو وہ سرکار کو دکھی کرتا ہے ۔
جناب علی علیہ سلام کو دکھی کرنے والا اگر ان سے محبت کا دعویٰ کرئے تو یہ اپنے آپ کو دھوکا دینے والی بات ہے
الغرض
جو افراد والدین کے گستاخ ہیں
رزق حلال کی تلاش نہ کرتے ہوں ۔
بیویوں پر تشدد کرتے ہیں
اولاد کی صحیح تعلیم و تربیعت کا خیال نہیں رکھتے
جوا کھیلتے ہیں
دوسروں کی بہن ، بیٹی یا بہو کو بری نظر سے دیکھتے ہیں
تو ایسے افراد سرکار کو پسند نہیں لہذا ایسے افراد سرکار کی مدد کے مستحق بھی نہیں ۔
یعنی ایسے افراد نادعلی پڑھیں یا نہ پڑھیں وہ سرکار کے کرم سے محروم ہی رہتے ہیں ۔
اومید ہے کہ آپ پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جناب علی علیہ سلام کی مدد کے اصل حق دار وہ ہیں جنہیں سرکار پسند فرماتے ہیں اور سرکار جنہیں پسند فرماتے ہیں ان کی نشانیا ں ہم نے آپ پر واضح کردی ہیں ۔
9) ۔ جناب علی علیہ سلام مدد کس طرح کرتے ہیں ؟
جناب علی علیہ سلام کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی فرد کی مدد سامنے آکر بھی کر سکتے ہیں اور غیب رہ کر بھی کر سکتے
لیکن 1000 میں سے 999 افراد کی مدد غیب سے ہی کی جاتی ہے اور جن افراد کے سامنے آکر سرکار کی ذات مدد فرماتے ہیں وہ اولیاء میں ہوتے ہیں ۔
جہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب علی علیہ سلام غیب سے کس طرح مدد فرماتے ہیں ۔
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ جناب علی علیہ سلام کی مدد آپ کی ہمت کو ملتی ہے
یعنی جناب علی علیہ سلام کی مدد صرف ان افراد کو حاصل ہوتی ہے جنکا مقصد جائز ہو اور وہ اپنے نیک مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی جان توڑ محنت اور مشقت کرتے ہیں ۔
یعنی اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ بے حد ہمت اور کوشش کے باوجود کامیاب ہوں گے تو اس وقت نادعلی پڑھنے سے آپ کو مزید ہمت کی صورت میں سرکار کی مدد حاصل ہو گی ۔
جسکی وجہ سے آپ کا ناممکن کام جناب علی علیہ سلام کی مدد سے انشاء اللہ ممکن ہو جائے گا ۔
اسکی مثال ایسے ہے کہ
ایک مزدور سخت تھکاوٹ کی حالت میں اگر دیوار بنا رہا ہے مگر سخت محنت کے باوجود اسے لگ رہا ہو کہ وہ دیوار نہیں بنا پائے گا اور اس دوران اس مزدور کی ہمت بھی جواب دے رہی ہو تو ایسی صورت میں اگر وہ نادعلی پڑھتا ہے تو اسے اسی وقت جناب علی علیہ سلام کی مدد ہمت کی صورت میں حاصل ہو جائے گی جسکی وجہ سے وہ مزدور دیوار بنانے میں جلد کامیاب ہو جائے گا ۔
یعنی جناب علی علیہ سلام کی مدد آپ کی ہمت کو حاصل ہو گی بشرطیکہ آپ اسکا استعمال کر رہیں ہوں ۔
اس جگہ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ دیوار کے سامنے پر سکون ہو کر بیٹھ جائے اور نادعلی پڑھتا رہے تاکہ دیوار خود بخود بن جائے تو ایسے افراد کو جناب علی علیہ سلام کی مدد حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی ایسے افراد سرکار کو پسند ہیں ۔
اسی طرح اگر سخت بیمار اور بے اولاد افراد قابل ڈاکٹر کی ادویات استعمال نہ کریں اور سرکار کی مدد کے انتظار میں بیٹھ جائیں تو یہ بات بھی سرکار کو پسند نہیں ۔
اصول یہ ہے کہ آپ سرکار سے مدد طلب کرنے کے بعد قابل ڈاکٹر سے اپنا علاج بھی کروائیں ۔
اس طرح کرنے سے سرکار کی مدد کے طفیل ڈاکٹر کی ادویات آپ کے لئے باعث شفاء بنے گیں ۔
اسی اصول کے تحت طالب علم ، سرکاری ملازم ، کاروباری افراد ، گھریلو پریشانیوں میں مبتلاء افراد اور بیماروں کو جناب علی علیہ سلام کی مدد حاصل ہوتی ہے ۔

کیا نادعلی شرک ہے ؟

بہت سے لوگ نادعلی کو شرک کرار دیتے ہیں اور اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اس دعا میں حضرت علی سے مدد طلب کی جاتی ہے جبکہ حضرت علی نہ تو زندہ ہیں اور نہ ہی کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔
تو ناظرین شرک اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود مانتا ہے اور جو افراد مولا علی علیہ سلام کو معبود مان کر نادعلی پڑھتا ہے تو یہ شرک ہے اور جناب علی علیہ سلام کو یہ بات پسند بھی نہیں لیکن جو افرادنادعلی کو اس نیت سے پڑھتے ہیں کہ اللہ کی ذات مولا علی علیہ سلام کے زریعے اس کی مدد فرمائیں گے تو یہ شرک نہیں یاد رہے کہ نفسیاتی اور روحانی نقطہ نظر سے انسان جس کو سوچتا ہے اس فرد کی خوبیاں سوچنے والے پر کچھ نہ کچھ اثر انداز ضرور ہوتی ہیں۔
اب جس کو سوچا جائے وہ ظاہری حوالے سے دنیا میں موجود ہو یا نہ ہو ۔ اب خود سوچیں کہ مولا علی علیہ سلام کی کیا خوبیاں ہیں یعنی ہمارا ایمان ہے کہ سرکار میں صبر ، شکر ، استقانت ، قناعت ، جرات ،علم اور بے شمار صفات موجود ہیں اور اللہ ہی کا نظام ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی خوبیاں اس پر ضرور اثر انداز ہو ں گی لہذاجو فرد مولا علی علیہ سلام کو سوچتا ہے یا اپنی مشکل میں ان سے مدد طلب کرتا ہے تو اس فرد میں اللہ کے حکم سے مولا کی کی صفات کے ذرات داخل ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے فرد کو اپنی مشکلات سے مقابلہ کرنے کی طاقت آجاتی ہے اور یہی مولا علی علیہ سلام کی مدد ہے جو کی حقیقت میں اللہ کی طرف سے ہی ہے۔

نادعلی بحوالہ اہل سنت

نادعلی سنی بزرگوں کی کتابوں میں ملتی ہے اور ان بزرگوں میں شاہ ولی اللہ اور شاہ محمد غوث گوالیاری اہم ہیں اہل توشعہ میں نادعلی کے حوالے سے بہت کم روایات موجود ہیں اور بعض اہل توشعہ نادعلی کو سنی صوفیہ اکرام کی زہین کی اختراع قرار دیتے ہیں اور یہ بات وکی شعیہ سائٹ میں تحریر ہے ۔ اہل توشعہ نادعلی پڑھنے پر اعتراض نہیں کرتے بلکہ صرف یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے پاس نادعلی کا کوئی واضع حوالہ موجود نہیں ۔ لیکن اس کے باوجود اہل توشعہ کا بچہ بچہ نادعلی پڑھتا ہے اور ان کے ہر گھر اور ہر امام بارگاہ میں آپ کو نادعلی تحریر ملے گی لیکن اگر ہم سنی مسلک کا جائزہ لیں تو آپ کو ہزار میں سے بمشکل ایک فرد ایساء ملے گا جو نادعلی پڑھتا ہوگا ۔ اسکی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ نادعلی کی روحانی حقیقت کا ہر ایرئے غیرئے کو پتہ نہ چلے بلکہ صرف نادعلی کی حقیقت کا صرف اس فرد کو پتہ چلے جو حقیقت میں محمد آل محمد کا محبت کرنے والا ہے ۔